24 دسمبر 2012 - 20:30

ايک ايسے وقت جب امريکا ميں ماليات کے بحران کو ختم کرنے کے لئے دي گئي مہلت ميں صرف ايک ہفتہ ہي باقي رہ گيا ہے اور اس کے بعد ملک ميں بڑا معاشي دھچکا لگنےوالا ہے امريکي صدر باراک اوباما اور امريکي ايوان نمائندگان کے سربراہ جان بوئينر دونوں ہي کريسمس کي ايک ہفتے کي چھٹي پر چلے گئے ہيں -

ابنا: امريکي کانگريس کے بعض ممبران نے امريکا کے مالي بحران کو اس کے حال پر چھوڑ ديئے جانے پر اپني ناراضگي کا اظہار کرتے ہوئے ڈيموکريٹ اور ريپبليکن کے درميان بحران کےحل کے لئے ہونےوالي بات چيت کے بے نتيجہ رہنے پر تشويش کا اظہار کيا ہے - رياست کنٹيکٹي کٹ کے سينٹر جو ليبر مين نے اس بارے ميں کہا کہ اس وقت ہم مالي تباہي کے دہانے پرکھڑے ہيں اور يہ صورتحال امريکي کانگريس يا شايد امريکي تاريخ ميں بدترين غير ذمہ دارانہ حرکت ہے - ريپبليکن سينٹر باب کروکر نے بھي امريکي معيشت کے ديواليہ ہوجانے کي بابت خبردار کرتے ہوئےکہا کہ دونوں پارٹيوں ميں کسي سمجھوتے تک پہنچنے کا عزم نہيں پايا جارہا ہے اور اگر يہي صورتحال جاري رہتي ہے تو نئے سال ميں امريکي معيشت انتہائي خطرناک موڑ پر پہنچ جائے گي - يہ انتباہات ايک ايسے وقت ميں آرہے ہيں جب صدر باراک اوباما اور ريپبليکن پارٹي سے تعلق رکھنے والے ايوان نمائندگان کے اسپيکر جان بوئنر اپنے گھروالوں کے ساتھ کريسمس کي چھٹياں گذارنے واشنگٹن سے باہر چلے گئے ہيں - واضح رہے کہ اگر باراک اوباما امريکي کانگريس ميں اپنے مخالفين سے کسي سمجھوتے پر نہيں پہنچ سکے تو امريکي شہريوں کے ٹيکسوں ميں اضافہ ہوجائے گا اور حکومتي بجٹ بھي کم ہوجائے گا جس کے نتيجے ميں امريکا ميں بہت سنگين مالي بحران اور جمود پيدا ہوجائے گا.

.......

/169